وزیراعظم کا جنوبی بلوچستان کے لیے جلد ترقیاتی پیکیج لانے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے جلد جنوبی بلوچستان کا دورہ کرکے وہاں کے عوام کے لیے جامع ترقیاتی پیکیج لانے کا اعلان کیا ہے۔

24 جولائی 2020ء کو ہونے والی قومی ترقیاتی کونسل کے اجلاس کے پس منظر میں آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اعلی سطح منعقد اجلاس ہوا۔

اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق، وزیر بحری امور علی زیدی، وزیر فوڈ سیکیورٹی فخر امام، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی ثانیہ نشتر، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد وسیم اشرف، معاون خصوصی توانائی تابش گوہر، معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر، وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز ور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

جنوبی بلوچستان کے لیے ڈیم، تعلیم، صحت، زراعت، مویشی، ماہی گیری پر بریفنگ

اجلاس کو جنوبی بلوچستان، خصوصاً خضدار، آوران، چاغی، خاران، واشک، لسبیلہ، گوادر، پنجگور اور تربت کے پسماندہ اضلاع کے لیے تجویز کردہ ترقیاتی پیکیج کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور جنوبی بلوچستان کے لیے سڑکوں، توانائی، پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم، تعلیم، صحت، زراعت، مویشی، ماہی گیری اور دیگر منصوبوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔

جنوبی بلوچستان پچھلے ادوار میں نظر انداز رہا، وزیراعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ جنوبی بلوچستان پچھلے ادوار میں نظر انداز رہا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو غربت اور پسماندگی کا سامنا رہا، ہماری حکومت نے بلوچستان کی ترقی کو اولین ترجیح دی تاکہ یہ خطہ ملک کے باقی علاقوں کی طرح ترقی کرے۔

گوادر بندرگاہ خاص اہمیت کی حامل ہے، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ خاص اہمیت کی حامل ہے جو ملکی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ جلد جنوبی بلوچستان کا دورہ کریں گے اور وہاں کے عوام کے لیے جامع ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے اور اس پیکیج میں شامل منصوبوں کا افتتاح بھی کریں گے۔

ہاؤسنگ اینڈ ڈیولمپنٹ کمیٹی کا اجلاس، سندھ میں 363 رہائشی منصوبوں کی اجازت

دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، تعمیرات اور ڈیویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوا۔ چیف سیکریٹری سندھ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 17 اپریل 2020ء سے اب تک 877 رہائشی اور 10 صنعتی منصوبوں کی تعمیر کے لیے درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں سے 363 منصوبوں کی اجازت دی جاچکی ہے جن کا کل تعمیراتی حجم 12 ملین اسکوائر فٹ بنتا ہے۔

کراچی تعمیرات میں بھی خاص اہمیت کا حامل ہے، وزیراعظم

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹائل اور سرامک کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کاغذات کی بروقت جانچ پڑتال کے لیے مانیٹرنگ کا آن لائن نظام موجود ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے اس لیے تعمیرات کے شعبے میں بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔

بلوچستان میں 1067 کمرشل اور 2033 رہائشی منصوبوں کی درخواستیں موصول

چیف سیکریٹری بلوچستان نے آگاہ کیا کہ صوبہ بلوچستان میں کل 1067 کمرشل اور 2033 رہائشی منصوبوں کے لیے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کی پراسیسنگ کی جارہی ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے آن لائن فیسوں کی ادائیگی کے لیے ون لنک سے معاہدہ طے پا چکا ہے۔ پراپرٹی کی دستاویزات کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو اسلام آباد میں جاری تجاوزات کے خلاف مہم کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کے تعمیرات کے شعبے سے روزگار کے مواقع ملیں گے اور کورونا وبا کی وجہ سے معاشی نقصان کے ازالے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت دی کے سرمایہ کاروں کے لیے انتظامی کارروائیوں کو سہل بنایا جائے۔