’’ریڈار‘‘ کس طرح کام کرتا ہے؟

لاہور:  ریڈار ایک طرح کی ریڈیو سرچ لائٹ ہے جو کسی بھی چیز کو سینکڑوں کلو میٹر کی دوری سے بھی تلاش کر لیتا ہے۔

یہ کام ریڈار اندھیرے اور دھند وغیرہ میں بھی کر لیتا ہے۔ریڈار کو اس کا نام ریڈیو ڈٹیکشن اینڈ رینجنگ سے ملا ہے۔

ریڈار تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ریڈیو لہریں اپنے ایریل سے فضا ء میں پھینکتا رہتا ہے۔ جب یہ لہریں کسی چیز سے ٹکراتی ہیں تو واپس ریڈار کی طرف پلٹ آتی ہیں اور ان لہروں کو ریڈیو رسیور پکڑ کر یہ اندازہ لگاتا ہے کہ نشانی کتنی دور ہے۔ریڈیو لہروں کی رفتار 3 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔

اسی طرح ریڈار کی سمت سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نشانی کی سمت کیا ہے۔

بحری جہازوں، بندرگاہوں اور خطرناک چیزوں جیسا کہ برفانی چٹانوں کو دیکھنے کے لیے ریڈار کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ہوائی جہاز بھی ریڈار کا استعمال کچھ ایسے ہی کاموں کے لیے کرتے ہیں۔ائیر پورٹ پر ریڈار کا استعمال جہازوں کو آپس میں ٹکرانے سے بچانے کیلئے ہوتا ہے۔

محکمہ موسمیات ریڈار کے ذریعے موسم میں تبدیلی کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ریڈار کے ذریعے مصنوعی سیاروں اور خلائی جہازوں کی جگہ کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔