یکم ستمبر سے مارکیٹوں میں اسمگل اشیا کی چیکنگ، ایف بی آر کی ٹیمیں تشکیل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر سے اسمگل شدہ اشیا کے خاتمے کیلیے مارکیٹوں میں موجود غیر ملکی اشیا کی درآمدی دستاویزات کی چیکنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے ڈائریکٹوریٹ جنرل کسٹمز انٹیلی جنس اور ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سمیت دیگر حکام پر مشتمل خصوصی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر کے سپیشل اسسٹنٹ زبیر بلال کی جانب سے لکھے جانیوالے دو صفحات پر مشتمل مراسلے کی،،ایکسپریس کو دستیاب کاپی کے مطابق ایف بی آر کی متعلقہ ٹیمیں چھاپے نہیں ماریں گی بلکہ دورہ کے موقع پراگر کسی دکاندار و تاجر کے پاس موجود غیر ملکی اشیاء کی درآمدی دستاویزات موجود نہیں ہونگی تو انہیں دستاویزات کا انتظام کرکے پیش کرنے کا معقول وقت و مہلت دی جائے گی۔

ٹیموں کے ممبران اپنی سرکاری شناخت آویزاں اور کارڈ ہمراہ رکھیں گے۔ ان ٹیموں کی سربراہی کوئی سینئر افسر کرے گا۔ چیکنگ کے حوالے سے ملک بھر میں ہونیوالی سرگرمیوں کے بارے میں متعلقہ ممبر کسٹمز آپریشن اور ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن کو بھی آن بورڈ رکھا جائے گا۔

اس چیکنگ کے دوران کسی بھی جگہ اگر ایف بی آر کی کوئی ٹیم غلط سرگرمیوں میں ملوث پائی جاتی ہے تو تاجر فوری طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ہیلپ لائن 772-772-111 یا ای میل Helpline@fbr.gov.pk پر شکایت درج کراکے متعلقہ ٹیم کی نشاندہی کریں گے تاکہ شکایت ازالہ کیا جاسکے۔ اگر کوئی اہلکار غلط سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔پاکستان میں اسمگلنگ کا مسئلہ بہت سنگین ہے کیونکہ اس دھندے میں براہ راست سرکاری اہلکارملوث ہیں۔

چند ہفتے قبل چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو اس مسئلہ پر بریفنگ دی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر اسمگلنگ میں 600 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

حکومت کی طرف سے جن اشیا پرریگولیٹری ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے،وہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر درآمد کرکے بیچی جارہی ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی بات کی ہے جس میں افغانستان کو آپشن دیا گیا ہے کہ یا تو وہ ان اشیا کی درآمد کا کوٹہ طے کرلیں یا پھر ڈیوٹی دے کر درآمد کریں اورجب یہ اشیا افغانستان پہنچ جائیں تو ڈیوٹی ڈرا بیک کرلیں۔چیئرمین ایف بی آر کی ہدایت پر جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت اسمگل شدہ اشیاء خاص طوراشیائے صرف کی وجہ سے بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

واضح رہے اسلام آباد میں سمگل شدہ ٹائر ایف بی آر کی ناک کے نیچے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فروخت کیے جارہے ہیں۔ایف بی آر کی ٹیمیں جب مارکیٹوں میں چیکنگ کیلئے جائیں گی تو انہیں تاجروں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ تاجر پہلے ہی معیشت کودستاویزی بنانے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

حقیقی مسئلہ سمگلنگ کی سرحدوں پر روک تھام ہے ،عام تاثر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کسٹم اہلکار اس دھندے میں ملوث ہیں۔2015 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کو ہرسال صرف 11 اشیاء کی زمینی سمگلنگ سے ہی 2.63 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ۔سمندراور کنٹینر مافیا ریاستی مشینری سے مل کر جو دھندہ کر رہا ہے وہ الگ ہے ۔یہ رپورٹ ہائی سپیڈ ڈیزل،گاڑیوں ، ٹائروں، چائے ،آٹو پارٹس،موبائل فونز، گارمنٹس، سگریٹس، پلاسٹک، ٹی وی سیٹس اور سٹیل شیٹس سے متعلق تھی باقی سمگلنگ الگ ہے۔

ایف بی آر نے اس رپورٹ کو دفن کردیا تھا کیونکہ اس میں بتایا گیا تھا یہ سمگلنگ حکومت کے اعلیٰ افسران کی آشیرباد کے بغیرممکن ہی نہیں۔نیٹوکنٹینرزکیس میں بھی کو ئی کارروائی نہیں کی گئی۔چیئرمین ایف بی آر نے ہفتہ کے روز چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی ایک مراسلہ لکھا ہے جس میں صوبائی محکموں ،ریگولیٹری باڈیزاور ترقیاتی اداروں کے ٹھیکوں سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کیلئے تعاون طلب کیا گیا ہے۔